چنڈی گڑھ،20؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے زرعی قوانین کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ دریں اثنا، پنجاب اسمبلی میں منگل کے روز ان قوانین کے خلاف تین قراردادیں پیش کی گئیں۔ وزیر اعلی پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے اسمبلی میں قراردادوں کو پیش کیا۔ پنجاب وہ پہلی ریاست ہے جہاں زرعی قوانین کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ہے۔
ان قراردادوں میں مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تین زرعی قوانین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہاں قراردادوں کو پیش کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ تینوں زرعی قوانین کے علاوہ، بجلی کے بل میں کی جانے والی تبدیلیاں بھی کسانوں اور مزدوروں کے خلاف ہیں، اس سے نہ صرف پنجاب بلکہ ہریانہ اور مغربی یوپی بھی متاثر ہوں گے۔
قراردادوں میں مرکزی حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ ایک نیا آرڈیننس لاکر ایم ایس پی کو بھی ان قوانین میں جگہ دی جائے۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں کے عمل کو بھی مستحکم کئے جانے کی اپیل کی گئی ہے۔ کیپٹن امریندر نے اپیل کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے پر متحد ہونا پڑے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اسمبلی میں رات گزار رہے ہیں، کوئی ٹریکٹر پر آ رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں ان معاملوں پر اس وقت تک سے، مظاہرے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک کہ ہم مرکز کے خلاف متحد ہوکر جنگ نہ لڑیں۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اب اس بل کی بنیاد پر ریاستی حکومت مزید قانونی لڑائ لڑے گی۔
قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق زراعت کا معاملہ ریاستی حکومت کے ہاتھ میں ہے لیکن مرکز نے اس پر ریاستوں کو اعتماد میں لئے بغیر خود ہی فیصلہ کیا ہے جو ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ ایسی صورت حال میں حتمی فیصلہ ریاستوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ اسمبلی میں کیپٹن امریندر کے بعد نوجوت سنگھ سدھو نے بھی اپنی بات رکھی اور مرکز کے زرعی قوانین کی مخالفت کی۔